اشوک نگر:13/مئی (ایس اونیوز /آئی این ایس انڈیا)مدھیہ پردیش کے ضلع اشوک نگرکے مونگاولی حلقہ اسمبلی کے کانگریسی رکن اسمبلی برجیندر سنگھ یادو کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پران دنوں کافی وائرل ہورہا ہے۔ متنازعہ وائرل ویڈیو میں رکن اسمبلی گاؤں والوں کو بھدی گالیاں دیتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔وائرل ویڈیوکولے کررکن اسمبلی برجیندر سنگھ یادو کا کہنا ہے کہ وہ اپنے رشتیدار کے یہاں گئے تھے اور انہیں رشتے داروں کو ڈانٹ رہے تھے، اس کو زبردستی مدعا بنایا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد لوگوں نے مونگاولی رکن اسمبلی کو جم کر نشانہ بنایا۔ اس کے بعد رکن اسمبلی نے بھی فیس بک پر صفائی پیش کی اور بتایا کہ جو ویڈیو وائرل ہوا ہے وہ نامکمل ہے۔ جو بھی پورا ویڈیو دیکھے گا اس کی سمجھ میں یہ بات آجائے گی کہ انہوں نے کیا کہا ہے؟ دوسری جانب سوشل میڈیاپرمخالفین اور حمایتیوں کے درمیان بحث اور الزاموں کا دور جاری ہے۔ اس معاملہ میں رکن اسمبلی سے بات کرنے پر انہوں نے بتایا کہ وہ جمعرات کو ٹیکہ پھلدان میں برولہ گاؤں گئے تھے۔ جہاں پیپریا گاؤں سے رشتیدارداتار سنگھ یادو بھی آئے تھے۔ وہ کانگریس کارکن بھی ہیں۔ گاؤں میں ایم پی فنڈسے لگوائے گئے ہینڈ پمپ کی موٹر خراب ہوگئی تھی جس پر انہوں نے پی ایچ ای سے بات کی۔ رشتیداروں نے ہینڈ پمپ کی مانگ کی اور ٓاٹھ ہینڈ پمپوں کی فہرست سونپ دی۔ ویڈیو میں ان سیہی بات کرتے ہوئے وہ ڈانٹ بھی رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ذمے چار سو گاؤں ہیں اور پہلا حق دوسرے سماج کا ہے۔ اس پر رشتیدار نے استعفی دینے کی بات کہی۔ اس پر انہوں نے کہا کہ سبھی کام سماج اور رشتیداروں کا کرنے لگوں تو میں ہی استعفی دے دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپوزیشن کے رکن اسمبلی ہیں۔ اسی حساب سے کام ہوتے ہیں۔ جذباتی ہونے کی وجہ سے ڈانٹتے وقت یہ الفاظ نکل گئے۔ بی جے پی والے زبردستی اس کو مدعابنا رہے ہیں۔ انہوں نے سب سے پہلے اسمبلی میں پانی کی مانگ کے لیے آواز اٹھائی تھی۔